امریکہ میں جب ایک قیدی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تو وہاں کے کچھ سائنس دانوں نے سوچا کہ کیوں نا اس قیدی پر کچھ تجربہ کیا جاے. تب قیدی کو بتایا گیا کہ ہم تمہیں پھانسی دے کر نہیں ماریں زہریلا کوبرا سانپ ڈسا کر ماریں گے..اور اس کے سامنے بڑا سا زہریلا کوبرا سانپ لے آنے کے بعد اس کی آنکھیں بند کرکے اس کو کرسی سے باندھ دیا گیا. اور اس کو سانپ نہیں بلکہ دو سیفٹی پِن چبھائی گئی… اور قیدی کی کچھ سیکنڈ میں ہی موت ہوگئی.
.پوسٹ مارٹم کے بعد پایا گیا کہ قیدی کے جسم میں سانپ کے زہر جیسا ہی زہر ہے. اب یہ زہر کہاں سے آیا جس نے اس قیدی کی جان لے لی. وہ زہر اس کے جسم نے ہی صدمے میں جاری کیا تھا… ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے اور وہ ہمارے جسم میں اسی کے مطابق ہارمونس تیار کرتی ہے…
75 فیصد بیماریوں کی وجہ منفی سوچ ہی ہوا کرتی ہے.آج انسان خود ہی اپنی منفی سوچ سے خود کو ختم کررہا ہے..اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں اور سدا خوش رہیں..25 سال کی عمر تک ہمیں یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا سوچیں گے.. 50 سال کی عمر تک اسی ڈر میں جیتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے. 50 سال کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بارے میں کوئی سوچ ہی نہیں رہا۔
Friday, 22 December 2017
کامیابی کی وجہ(ناکامی)
آرتھر گورڈن ایک دفعہ تھامس جے واٹسن سے ملنے گیا، اس نے تھامس سے پوچھا کہ کیا ایک مصنف تیزی سےترقی کر کے کامیابی حاصل کر سکتاہے؟
تھامس امریکہ کا بہت بڑا بزنس مین تھا،اس نے جواب دیا کہ
"اگر آپ بہت تیزی کے ساتھ ترقی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو دگنی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔کامیابی ناکامی سے کافی فاصلے پر ہوتی ہے"۔
یہ حقیقت ہے کہ جو ناکامی آپ پہلے اٹھا چکےہیں،کامیابی کے لیے مزید ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتاہے۔آپ کی ناکامی ہی آپ کو کامیابی کے لئے تیار کرتی ہے۔
جتنی زیادہ چیزوں کے لئےآپ کوشش کریں گے ،اسی طرح آپ کو کامیابی بھی زیادہ ملے گی۔
آپ اپنے خوف پر قابوپا سکتے ہیں۔خوف پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ جن کاموں سے خوف زدہ ہیں انہیں کرنا شروع کر دیںآپ کا خوف ختم ہو جائے گا۔
(گزشتہ سے پیوستہ)پیش لفظ
یہ کتاب ہمیں بتاتی ہےکہ آپ اپنی سوچ کو کیسے تبدیل کر سکتے ہیں اور اپنے لئے لامحدود ممکنات کے نئے دروازے کیسے کھول سکتے ہیں۔برائن ٹریسی کے اس فلسفہ سے بیس لاکھ سے بھی زائد لوگ اپنی سوچ کو تبدیل کر کے اپنی زندگیوں کو تبدیل کر چکے ہیں۔برائن ٹریسی کے اس فلسفے کی بنیاد اس کے تیس سالہ تجربے پر ہے جس سے بیس لاکھ سے زائد لوگ مستفید ہو چکے ہیں۔اور اپنی زندگی کے اہداف حاصل کر چکے ہیں۔اس کتاب کی مدد سے آپ اپنی سوچ میں وسعت پیدا کر سکتے ہیں اور اس سے آپ اپنی اہلیت بھی تخلیق کر سکتے ہیں۔
اس کتاب میں بارہ ایسے طاقتور اصول دیئے گئے ہیں جن کی مدد سے آپ اپنی زندگی کے صحیح راستوں کا تعین کر سکیں گے۔اور اس سے آپ اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کو بہتر کر سکیں گے۔
یہ طاقتور اصول آپ کو بتائے گے کہ آپ کے اعلی خواب کیسے حقیقت میں بدلتے ہیں ۔آپ کو زندگی کیسے گزارنا ہے۔دولت مند کیسے بننا ہےاور اپنی زندگی کے مقاصد کو کیسے حاصل کرنا ہے۔ اس کتاب کے ہر باب میں کچھ سبق آموز کہانیاں اور اصول بیان کیے گئے ہیں جس سے آپ سیکھیں گے کہ سوچ کو عمل میں کیسے لانا ہے عملی مشقیں بھی آپ کو مثبت سوچنا اور عمل کرنا سکھائیں گی۔
اس کتاب میں دیا گیا ہر اصول آپ کی سوچ کو مثبت کرنے میں مدد دے گا۔اور اس کتاب میں دی گئی تمام مشقیں آپ میں اس طرح تبدیلیاں لائے گی جس طرح آپ اس دنیا کو اپنے مستقبل کو دیکھنا چاہتے ہیں۔اور پھر آپ جلد ہی اپنے مستقبل کے حوالے سے لامحدود ممکنات کو دیکھنا شروع کر دے گے۔آپ سیکھے گے کہ ایک کامیاب خوش اور باعزت شخص کیسے سوچتا ہے۔اور کیسے عمل کرتا ہے۔اس کتاب میں دیئے گئے اصولوں میں پوری دنیا میں لاکھوں لوگوں کی مدد کی ہیں ۔جنہوں نے اپنی زندگیوں میں مثبت سوچ پیدا کر کے اپنی زندگیوں کو فعال بنا لیا ہے۔یہ کتاب آپ کی مدد بھی کر سکتی ہے۔اگر آپ صحت ،خوشی ،پیشے اور اپنی ذاتی زندگی میں تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں تو اس کا مطالعہ ضرور کیجئے۔(مترجم شکیل احمد)
Thursday, 21 December 2017
پیش لفظبرائن ٹریسی آج کل دنیا کا مقبول ترین پیشہ ور مقرر اور بزنس مشاورت پر اتھارٹی ہے۔وہ ہر سال ہزاروں لوگوں کو ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش میں مدد کرتا ہے۔یہ اس کی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ہےاس کی مدد سے آپ اپنے مستقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ٹریسی اس میں آپ کو ایک ایسے منصوبے سے متعارف کرواتا ہےجس پر عمل کرکے آپ اپنے سوچنے کے انداز کوتبدیل کرکے اپنے آپ کو تبدیل کر سکتے ہیں اور اپنی اہلیت کو بڑھا سکتےہیں۔آپ کسی بھی کام کو جس طرح کرتے ہیں اس پر آپ کی سوچ کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آپ کسی کام کو اس وقت مکمل کر سکتے ہیں جب آپ کو اس کام کو کرنے کا پورا یقین ہو۔اگر آپ اس کام کے متعلق نہیں سوچتے تو آپ اسے کر بھی نہیں سکتے ۔آپ کی زندگی کے تجربات آپ کے سوچنے کے انداز کاتعین کرتے ہیں۔لیکن آپ کے خیالات مستقل نہیں ہوتے جیسا کہ آپ موٹر بائیک چلانا سیکھتے ہیں یا جیسے آپ شطرنج کھیلنا سیکھتے ہیں اسی طرح آپ اپنی سوچ اورزندگی کا بھی کنٹرول حاصل کرنا سیکھ سکتے ہیں۔(پیش لفظ جاری ہے)۔
Subscribe to:
Comments (Atom)
